نئی دہلی،4 جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)مسلح افواج میں خواتین کیلئے بڑے کردار کی وکالت کرتے ہوئے وزیر دفاع منوہر پاریکر نے آج خواتین بٹالین بنانے اورخواتین کو جنگی شپ پر تعینات کرنے کے خیالات کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ مسلح افواج میں خواتین لڑاکا پائلٹوں کو شامل کرنے کے بعد سے نفسیاتی رکاوٹ دور ہو گئی ہے۔پاریکر نے کہا کہ قومی دفاعی اکیڈمی کے ذریعے خواتین کو مسلح فورسز میں شامل کئے جانے اور فوجی اسکولوں میں لڑکیوں کے لیے داخلہ دینے پر غور کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان جھانسی کی رانی اور درگا جیسی خواتین کا ملک ہے لیکن کئی وجوہات سے خواتین کو دور رکھا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب میں وزیردفاع بنا تھا تو میں نے سوچا کہ ہمیں اسٹریٹجک پہل کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلح افواج میں بنیادی طورمردوں کا غلبہ ہے۔اگر فوج اور بحریہ کو خواتین کے کردار کے لئے کھول دیا جاتا ہے تو امریکہ اور اسرائیل سمیت دنیا کے ان ممالک میں ہندوستان شامل ہو جائے گا جہاں اس طرح کا بندوبست ہے۔سیمینار میں انہوں نے کہا کہ اس طرح کا خیال ہے کہ فوجی ایک خاتون کمانڈنگ آفیسر کی بات نہیں سنیں گے کیونکہ انہیں ایسا کرنے کی تربیت نہیں ہوتی،میں اس سے متفق نہیں ہوں کیونکہ آج واحد ذمہ داری بنیادی ڈھانچہ خصوصیت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین لڑاکا کردار میں بھی ہو سکتی ہیں،پوری خواتین ٹیم، خواتین کی بٹالین کیوں نہیں ہو سکتی،اس لئے مردوں کی ٹیم کی قیادت خواتین حکام کے کرنے کے سوال پر اگر ابتدائی مخالفت کی بات ہے تو اس کا بھی خیال رکھا جا سکتا ہے۔